Showing posts with label اقتباس. Show all posts
Showing posts with label اقتباس. Show all posts
لال بہادر شاستری - گھنگرو ٹوٹ گئے
Friday, April 09, 2010
"حفیظ
جالندھری جو ہمارے بزرگ شاعر تھےوہ ایک طرح سے مشاعرے میں شاعروں کے صدر تھے۔ ان
کی عادت تھی کہ وہ کلام سنانے کے ساتھ ساتھ تقریر بھی کر جاتے تھے ۔ اور جملہ
بازی بھی کر جاتے تھے۔ انہوں نے مناسب سمجھا کہ مشاعرے کے صدر لال بہادر شاستری
سے تھوڑی سی بے تکلفی کریں۔ چنانچہ باتیں کرتے کرتے وہ کہنے لگے کہ یار
شاستری ! سنو یہاں ایسے شعر نصیب نہیں ہوئے ہوں گے۔
اس جملے پر
شاستری صاحب نے صرف آنکھیں حفیظ صاحب کی طرف کرے دیکھا اور کوئی رد عمل نہیں دیا۔
لیکن حفیظ صاحب نے دیکھ لیا کہ ان کی آنکھوں میں کیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے پہلے تو
پبلک کی طرف مخاطب ہو کر شعر سنایا اور پھر صاحب صدر کی طرف منہ کر کے انہیں جناب
شاستری صاحب کہہ کہ مخاطب کیا۔ اس وقت شاستری صاحب کے چہرے پر بشاشت آئی اور
انہوں نے سر ہلا کر کہا کہ ارشاد فرمائیے۔
میں نے اتنا بلیغ
خاموشی والا آدمی زندگی میں نہیں دیکھا۔ خاموش رہ کر باتیں کرنے والا چہرہ شاستری
کا تھا۔
حفیظ صاحب کا
واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے پہلے جملے میں گستاخانہ انداز اختیار کیا تھا اور وہاں
کے ایک معزز شخص کو یار شاستری کہہ کر مخاطب کیا جس سے کہ ان کی بے تکلفی بھی
نہیں تھی۔ کوئی اور شخص ہوتا تو اس کے چہرے پر ناگواری کی شکنیں آتیں لیکن شاستری
صاحب نے اپنی خاموشی سے اور صرف حفیظ صاحب کی طرف دیکھ کر ہی اپنی ناپسندیدگی کا
اظہار کر دیا۔ اور جب اگلی بار حفیظ صاحب نے کہا کہ جناب شاستری صاحب ! شعر
ملاحظہ فرمائیے تو انہوں نے اپنے چہرے کے تاثر دیتے ہی پچھلے غصے کو بھلانے کا
اظہار کر دیا۔"
قتیلؔ شفائی کی
آپ بیتی "گھنگرو ٹوٹ گئے" سے اقتباس
فرقہ وارانہ فسادات - پنجابی طالبان
Saturday, March 06, 2010
محمد احمد
لدھیانوی کو آج بھی جھنگ میں طاقتور شخصیت تسلیم کیا جاتا ہےبلکہ پچھلے دنوں فوجی
ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) پر جب حملہ آوروں نے کئی اعلیٰ فوجی عہدیداروں کو کئی
گھنٹے تک یرغمال بنائے رکھا تو حملہ آوروں سے بات چیت کے لئے فوجی کمانڈروں نے
کالعدم سپاہِ صحابہ کے سربراہ محمد احمد لدھیانوی سے جھنگ میں ہی رابطہ کیا اور
"مدد" حاصل کی۔
دوسری طرف فیصل
آباد میں قائم اہلِ تشیع مدرسہ "جامع آلِ محمد" فرقہ وارانہ قتل و غارت
میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ مذکورہ
مدسرے کے بانی محمد اسماعیل دیو بندی پاکستان میں فرقہ واریت کے بانیوں میں شمار
کئے جاتے ہیں۔ مولانا اسماعیل احمد دیوبندی جیسا کہ نام سے ظاہر ہے شیعہ مذہب
اختیار کرنے سے پہلے دیو بندی مسلک سے منسلک تھے۔ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ
ایک شعلہ بیان مناظر اور خطیب تھے جو اپنے خطبات کے ذریعے "آگ" لگانے
میں مہارت رکھتے تھے۔ جب انہوں نے دیوبندی مسلک کو ترک کر کے شیعہ مسلک اختیار کیا
تو انہوں نے اپنی اس شعلہ بیانی رخ سنّی عقائد کی طرف موڑ دیا۔ عقیدہ تبدیل کرنے
کے بعد انہیں اہلِ تشیع حلقوں میں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اور وہ ہر مجلس میں اپنی
تقریر کا آغاز اس جملے سے کرتے کہ "میں بالآخر مذہب حق کی طرف لوٹ آیا ہوں
اور آپ سے معافی کا طلب گا ر ہوں کہ میں نے اپنے "ایامِ جہالت" میں آپ
لوگوں کی بہت دل آزاری کی اور دینِ اسلام کی اصل شخصیات کو پہچان نہ سکا"۔
مجاہد
حسین کی تصنیف "پنجابی طالبان" سے اقتباس۔
خانہ بدوش - بدلتی ہوئی تاریخ
Friday, February 12, 2010
"فریزر نے ان
کے بارے میں جو تجزیہ کیا ہے وہ دوسری جماعتوں، فرقوں اور گروہوں سے انہیں مختلف
کر دیتا ہے۔ مثلاً ان کے ہاں کوئی مذہبی طبقہ نہیں ہے، کوئی مذہبی کتاب نہیں ہے کہ
جو ان کی اخلاقی قدروں کو متعین کرے۔ کوئی استاد اور راہنما نہیں ہے کہ جو ان کی نسلی
روایات کی نگرانی کرے ان کی زبان کا کوئی ایک معیار نہیں ہے۔ ہمیشہ خانہ بدوشی اور
گردش میں رہنے کی وجہ سے جہاں جاتے ہیں وہاں کی زبان کے الفاظ ان کی زبان میں
آجاتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ واپس جانے کے لئے ان کی کوئی سرزمین نہیں، ہندوستان
سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہے، اور نہ ہی وطن کے بارے میں ان کے ہاں ناستلجیا ہے۔
یہی حال ان کا تاریخ سے دلچسپی کا ہے۔ کیونکہ ہمیشہ پھرتے رہتے ہیں۔ اور کسی ایک
جگہ سے تعلق نہیں، اس لئے یہ کسی قوم یا سرزمین کی تاریخ کا حصہ بھی نہیں ہیں۔ نہ
ہی انہیں اپنی تاریخ سے کوئی لگاؤہے اور نہ ہی ماضی سے اپنہ رشتہ بناتے ہیں۔ ان
خصوصیات کی وجہ سے جپسی گروہ ایک ایسے کردار اور خصوصیت کا حامل ہے جودوسروں کے
ہاں نہیں ہیں۔"
ڈاکٹر
مبارک علی کی تصنیف "بدلتی ہوئی تاریخ"سےاقتباس۔
Subscribe to:
Posts (Atom)